Wednesday, 3 May 2017
Btaao tu sahi
Saturday, 29 April 2017
Gazal by Ahmed Faraz
نہ انتظار کی لذت نہ آرزو کی تھکن
بجھی ہیں درد کی شمعیں کہ سو گیا ہے بدن
سُلگ رہی ہیں نہ جانے کس آنچ سے آنکھیں
نہ آنسوؤں کی طلب ہے نہ رتجگوں کی جلن
دلِ فریب زدہ دعوتِ نظر پہ نہ جا
یہ آج کے قد و گیسو ہیں کل کہ دار و رسن
غریبِ شہر کسی سایۂ شجر میں نہ بیٹھ
کہ اپنی چھاؤں میں خود جل رہے ہیں سرو و سمن
بہارِ قرب سے پہلے اُجاڑ دیتی ہیں
جدائیوں کی ہوائیں محبتوں کے چمن
وہ ایک رات گزر بھی گئی مگر اب تک
وصالِ یار کی لذت سے ٹوٹتا ہے بدن
پھر آج شب ترے قدموں کی چاپ کے ہمراہ
سنائی دی ہے دلِ نامراد کی دھڑکن
یہ ظلم دیکھ کہ تُو جانِ شاعری ہے مگر
مری غزل میں ترا نام بھی ہے جُرمِ سخن
امیرِ شہر غریبوں کو لُوٹ لیتا ہے
کبھی بہ حیلئہ مذہب کبھی بنامِ وطن
ہوائے دہر سے دل کا چراغ کیا بجھتا
مگر فراز سلامت ہے یار کا دامن
احمد فراز
Thursday, 27 April 2017
Gazal - Amjad Islam Amjad
Sad Gazal
Wednesday, 26 April 2017
Parveen Shakar - Best Gazal
Tuesday, 25 April 2017
Sad Gazal - Abi wo Dard baqi ha
Udas Poetry - Teri chup
Gazal - Sham k baad
Gazal - Rabty Muhabat k
رابطے محبت کے،
ضابطے محبت کے۔۔
گھیر گھیر لیتے ہیں،
دائرے محبت کے۔۔
بےمہار ہوتے ہیں،
قافلے محبت کے۔۔
روز تو نہیں ہوتے،
حادثے محبت کے۔۔
کوئی بھی نہیں ٹکتا،
سامنے محبت کے۔۔
روح پر پڑے آکر،
آبلے محبت کے۔۔
فاصلے نہیں ہوتے،
فاصلے محبت کے۔۔*
دور تک نکل آئے،
*سلسلے محبت کے۔۔*
Gazal - Mere Shart
Sunday, 23 April 2017
Gazal - ye Tere jheel see aankhain
یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رت جگوں کے بھنور
یہ تیرے پھول سے چہرے پہ چاندنی کی پھوار
یہ تیرے لب یہ دیار یمن کے سرخ عقیق
یہ آئینے سی جبیں سجدہ گاہ لیل و نہار
یہ نیاز گھنے جنگلوں سے بال تیرے
یہ پھولتی ہوئی سرسوں کا عکس گالوں پر
یہ دھڑکنوں کی زباں بولتے ہوے ابرو
کمند ڈال رہے ہیں میرے خیالوں پر
یہ نرم نرم سے ہاتھوں کا گرم گرم سا لمس
گداز جسم پہ بلور کی تہوں کا سماں
یہ انگلیاں یہ زمرد تراشی شاخیں
کرن کرن تیرے دانتوں پہ موتیوں کا گماں
یہ چاندنی میں دھلے پاؤں جب بھی رقص کریں
فضا میں ان گنے گھنگھرو چھنکتے لگتے ہیں
یہ پاؤں جب کسی رستے میں رنگ برسائیں
تو موسموں کے مقدر سنورنے لگتے ہیں
تیری جبیں پہ اگر حادثوں کے نقش ابھریں
مزاج گردش دوراں بھی لڑکھڑا جاے
تو مسکراے تو صبحیں تجھے سلام کریں
تو رو پڑے تو زمانے کی آنکھ بھر آے
تیرا خیال ہے خوشــــبو ، تیرا لباس کرن
تو خاک زاد ہے یا آســماں سے اُتری ہے
میں تجھ کو دیکھ کے خود سے سوال کرتا ہوں
یہ رنگ موج زمیں پر کہاں سے اُتری ہے ؟
میں کس طرح تجھے لفظوں کا پیرہن بخشوں ؟
میرے ہنر کی بلندی تو سرنگوں ہے ابھی
تیرے بدن کے خد و خال میرے بس میں نہی
میں کس طرح تجھے سوچوں، یہی جنوں ہے ابھی
ملے ہیں یوں تو کئی رنگ کے حسیں چہرے
میں بے نیاز رہا موجِ صبا کی طرح
تیری قسم تیری قربت کے موسموں کے بغیر
زمیں پہ میں بھی اکیلا پھرا خدا کی طرح
مگر میں شہر حوادث کے سنگ زادوں سے
یہ آئینے سا بدن کس طرح بچاؤں گا ؟
مجھے یہ ڈر ہے کسی روز تیرے کرب سمیت
میں خود بھی دکھ کے سمندر میں ڈوب جاؤں گا
مجھے یہ ڈر ہے کہ تیرے تبسموں کی پھوار
یونہی وفا کا تقاضا حیا کا طور نہ ہو
تیرا بدن تیری دنیا ہے منتظر جس کی
میں سوچتا ہوں میری جاں وہ کوئی "اور" نہ ہو
میں سوچتا ہوں مگر سوچنے سے کیا حاصل
یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھنور
Gazal - Muhabat
ہم نے جو کی تھی محبت وہ آج بھی ہے
تیری زلفوں کے سائے کی چاہت آج بھی ہے
رات کٹتی ہے آج بھی خیالوں میں تیرے
دیوانوں سی وہ میری حالت آج بھی ہے
کسی اور کے تصّور کو اُٹھتی نہیں
بے ایماں آنکھوں میں تھوڑی سی شرافت آج بھی ہے
چاہ کے ایک بار چاہے پھر چھوڑ دینا تُو
دل توڑ تجھے جانے کی اجازت آج بھی ہے



















