Showing posts with label Gazal. Show all posts
Showing posts with label Gazal. Show all posts

Wednesday, 3 May 2017

Btaao tu sahi

بتاؤ تو سہی آخر ہوا کیا ہے...
یہ کیسی بیقراری ہے
یہ کیا بے اختیاری ہے...
یہ نیلے آسماں پر بادلوں کے جو پرندے اڑتے پھرتے ہیں
یہ تم کو کیوں نہیں بھاتے...
یہ آنکھوں سے سیاہ وحشت کے سایے سے
کہو چھٹ کیوں نہیں جاتے...
کسی کا غم ستاتا ہے
کوئی دوری جلاتی ہے
تو رو لو ناں..
کسی سے گر محبّت ہے
کسی کی چاہ کی چاہت ہے
تو کہ دو ناں...
یہ ویرانی عجب کیوں ہے
اداسی بے سبب کیوں ہے...
ہجوم بیکراں میں کیوں تمہیں تنہائی ڈستی ہے؟؟
تمہاری ریتلی دھرتی،
بتاؤ کون سے ان برسے ساون کو ترستی ہے؟؟
تمہاری دھڑکنوں میں
اب وہ پہلی سی روانی کیوں نہیں باقی...
بتاؤ تو سہی اے دل
بتاؤ تو سہی، آخر ہوا کیا ہے؟؟؟

Saturday, 29 April 2017

Gazal by Ahmed Faraz

نہ انتظار کی لذت نہ آرزو کی تھکن
بجھی ہیں درد کی شمعیں کہ سو گیا ہے بدن

سُلگ رہی ہیں نہ جانے کس آنچ سے آنکھیں
نہ آنسوؤں کی طلب ہے نہ رتجگوں کی جلن

دلِ فریب زدہ دعوتِ نظر پہ نہ جا
یہ آج کے قد و گیسو ہیں کل کہ دار و رسن

غریبِ شہر کسی سایۂ شجر میں نہ بیٹھ
کہ اپنی چھاؤں میں خود جل رہے ہیں سرو و سمن

بہارِ قرب سے پہلے اُجاڑ دیتی ہیں
جدائیوں کی ہوائیں محبتوں کے چمن

وہ ایک رات گزر بھی گئی مگر اب تک
وصالِ یار کی لذت سے ٹوٹتا ہے بدن

پھر آج شب ترے قدموں کی چاپ کے ہمراہ
سنائی دی ہے دلِ نامراد کی دھڑکن

یہ ظلم دیکھ کہ تُو جانِ شاعری ہے مگر
مری غزل میں ترا نام بھی ہے جُرمِ سخن

امیرِ شہر غریبوں کو لُوٹ لیتا ہے
کبھی بہ حیلئہ مذہب کبھی بنامِ وطن

ہوائے دہر سے دل کا چراغ کیا بجھتا
مگر فراز سلامت ہے یار کا دامن
احمد فراز

Thursday, 27 April 2017

Gazal - Amjad Islam Amjad

ﮨﻮﺍ ﺗﮭﻤﯽ ﺗﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭ ﻟﯿﮑﻦ
ﻭﮦ ﺷﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﺳﺴﮏ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ
ﮐﮧ ﺯﺭﺩ ﭘﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﻧﺪﮬﯿﻮﮞ ﻧﮯ
ﻋﺠﯿﺐ ﻗﺼﮧ ﺳﻨﺎ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ
ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺗﻤﺎﻡ ﭘﺘﮯ
ﺳﺴﮏ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ
ﺑﻠﮏ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ
ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺲ ﺳﺎﻧﺤﮯ ﮐﮯ ﻏﻢ ﻣﯿﮟ
ﺷﺠﺮ ﺟﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﮐﮭﮍ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ
ﺑﮩﺖ ﺗﻼﺷﺎ ﺗﮭﺎ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺗﻢ ﮐﻮ
ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺭﺳﺘﮧ
ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻭﺍﺩﯼ
ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﺑﺖ
ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﺎﭨﯽ
ﻣﮕﺮ
ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺧﺒﺮ ﻧﮧ ﺁﺋﯽ
ﺗﻮ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺩﻝ ﮐﻮ ﭨﺎﻻ
ﮨﻮﺍ ﺗﮭﻤﮯ ﮔﯽ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ
ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ
ﻣﮕﺮ .... ﮨﻤﺎﺭﯼ ﯾﮧ ﺧﻮﺵ ﺧﯿﺎﻟﯽ
ﺟﻮ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ
ﮨﻮﺍ ﺗﮭﻤﯽ ﺗﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭ ﻟﯿﮑﻦ
ﺑﮍﯼ ﮨﯽ ﻣﺪﺕ ﮔﺰﺭ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻨﮕﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺳﻔﯿﺪ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﺍﺗﺮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ
ﻓﻠﮏ ﭘﮧ ﺗﺎﺭﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ
ﮔﻼﺏ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ
ﻭﮦ ﺟﻦ ﺳﮯ ﺑﺴﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺑﺴﺘﯽ
ﻭﮦ ﯾﺎﺭ ﺳﺎﺭﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ
ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺍﻟﻤﯿﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﺎﻻﺗﺮ ﺗﮭﺎ
ﮐﮧ ﮨﻢ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ
ﮐﮧ ﺗﻢ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ
ﮨﻮﺍ ﺗﮭﻤﯽ ﺗﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭ ﻟﯿﮑﻦ
ﺑﮍﯼ ﮨﯽ ﻣﺪﺕ ﮔﺰﺭ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ

ﺍﻣﺠﺪ ﺍﺳﻼﻡ ﺍﻣﺠﺪ

Sad Gazal

مجھے خط ملا ہے غنیم کا
بڑی عُجلتوں میں، لکھا ہُوا

کہیں،، رنجشوں کی کہانیاں
کہیں دھمکیوں کا ہے سلسلہ

مجھے کہہ دیا ہے امیر نے
کرو،،،، حُسنِ یار کا تذکرہ

تمہیں کیا پڑی ہے کہ رات دن
کہو،،،،،، حاکموں کو بُرا بھلا

تمہیں،،، فکرِ عمرِ عزیز ہے
تو نہ حاکموں کو خفا کرو

جو امیرِ شہر کہے تُمہیں
وہی شاعری میں کہا کرو

کوئی واردات کہ دن کی ہو
کوئی سانحہ کسی رات ہو

نہ امیرِ شہر کا زکر ہو
نہ غنیمِ وقت کی بات ہو

کہیں تار تار ہوں،، عصمتیں
میرے دوستوں کو نہ دوش دو

جو کہیں ہو ڈاکہ زنی اگر
تو نہ کوتوال کا،،،،، نام لو

کسی تاک میں ہیں لگے ہُوئے
میرے جاں نثار،،،،، گلی گلی

ہیں میرے اشارے کے مُنتظر
میرے عسکری میرے لشکری

جو تُمہارے جیسے جوان تھے
کبھی،،، میرے آگے رُکے نہیں

انہیں اس جہاں سے اُٹھا دِیا
وہ جو میرے آگے جُھکے نہیں

جنہیں،، مال و جان عزیز تھے
وہ تو میرے ڈر سے پِگھل گئے

جو تمہاری طرح اُٹھے بھی تو
اُنہیں بم کے شعلے نگل گئے

میرے جاں نثاروں کو حُکم ہے
کہ،،،،،، گلی گلی یہ پیام دیں

جو امیرِ شہر کا حُکم ہے
بِنا اعتراض،، وہ مان لیں

جو میرے مفاد کے حق میں ہیں
وہی،،،،،،، عدلیہ میں رہا کریں

مجھے جو بھی دل سے قبول ہوں
سبھی فیصلے،،،،،،، وہ ہُوا کریں

جنہیں مجھ سے کچھ نہیں واسطہ
انہیں،،،، اپنے حال پہ چھوڑ دو

وہ جو سرکشی کے ہوں مرتکب
انہیں،،،،، گردنوں سے مروڑ دو

وہ جو بے ضمیر ہیں شہر میں
اُنہیں،،،، زر کا سکہ اُچھال دو

جنہیں،،،،، اپنے درش عزیز ہوں
اُنہیں کال کوٹھڑی میں ڈال دو

جو میرا خطیب کہے تمہیں
وہی اصل ہے، اسے مان لو

جو میرا امام،،،،،،، بیاں کرے
وہی دین ہے ، سبھی جان لو

جو غریب ہیں میرے شہر میں
انہیں بُھوک پیاس کی مار دو

کوئی اپنا حق جو طلب کرے
تو اسے،، زمین میں اتار دو

جو میرے حبیب و رفیق ہیں
انہیں، خُوب مال و منال دو

جو، میرے خلاف ہیں بولتے
انہیں، نوکری سےنکال دو

جو ہیں بے خطاء وہی در بدر
یہ عجیب طرزِ نصاب ہے

جو گُناہ کریں وہی معتبر
یہ عجیب روزِ حساب ہے

Wednesday, 26 April 2017

Parveen Shakar - Best Gazal

یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہوجاؤ
وہیں سے لوٹ جانا تم جہاں بےزار ہوجاؤ

ملاقاتوں میں وقفہ اس لئے ہونا ضروری ہے
کہ تم اک دن جدائی کے لئے تیار ہوجاؤ

بہت جلد سمجھ میں آنے لگتے ہو زمانے کو
بہت آسان ہو تھوڑے بہت دشوار ہوجاؤ

بلا کی دھوپ سے آئی ہوں میرا حال تو دیکھو
*بس اب ایسا کرو تم سایۂ دیوار ہوجاؤ

ابھی پڑھنے کے دن ہیں لکھ بھی لینا حالِ دل اپنا
مگر لکھنا تبھی جب لائقِ اظہار ہوجاؤ

پروین شاکر

Tuesday, 25 April 2017

Sad Gazal - Abi wo Dard baqi ha


ابھی_وہ_درد_باقی_ھے
اگرچہ وقت مرھم ھے
مگر کچھ وقت تو لگتا ھے
کسی کو بُھول جانے میں
#دوبارہ_دل بسانے میں

ابھی کچھ وقت لگنا ھے
#ابھی_وہ_درد_باقی_ھے

میں کیسے نئی اُلفت میں
اپنی ذات کو گُم کر لوں
کہ میرے جسم و وجداں میں
ابھی وہ #فرد_باقی ھے

ابھی اُس شخص کی مجھ پر
#نگاہِ_سرد باقی ھے
ابھی تو عشق کے راستوں کی
مجھ پر گرد باقی ھے

ابھی_وہ_درد_باقی_ھے

Udas Poetry - Teri chup


#ﻣﯿﺮﮮ_ﭼﺎﺭﮦ_ﮔﺮ۔۔ 

ﺗﯿﺮﯼ ﭼُﭗ ﮐُﮭﻠﮯ۔ 

ﮐﮧ 

ﮨﻮﺍ ﮐﻮ #ﺍﺫﻥِ_ﺳﻔﺮ ﻣﻠﮯ !! 

ﻣﯿﺮﮮ ﺯﺧﻢ ﮐﮭﻞ ﮐﮯ ﮔﻼﺏ ﮨﻮﮞ ! 

ﯾﮧ ﺟﻮ ﺳﺎﻧﺲ ﺳﺎﻧﺲ ﮨﯿﮟ ﻭﺣﺸﺘﯿﮟ ۔ 

ﯾﮧ ﺳــــﺮﺍﺏ ﻭ ﺧــــﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﻣﻨﺰﻟﯿﮟ ۔ 

ﯾﮧ ﺩِﯾﮯ ﮐﯽ ﻟﻮ ﺳﯽ ﺟـــــــﻮ ﺁﺱ ﮨﮯ۔۔ 

#ﺗﯿـــــــــﺮﺍ_ﺣُﮑﻢ_ﮨﻮ ۔۔۔ 

ﺗﻮ ﯾﮧ ﺟﻞ ﺑُﺠﮭﮯ !! 

ﻣﺠﮭﮯ ﻋﺸﻖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺻِﻠﮧ 
ﻣﻠﮯ ۔ 
ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮪ #ﺭﻭﺡ ﮐﯽ ﮔﺮﮦ ﮐﮭﻠﮯ ۔ 

ﯾﮧ ﺑﺪﻥ ﮐﯽ ﻗﯿﺪ ﺳﮯ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ۔ 
#ﺗﯿﺮﺍ_ﯾﮧ_ﮐــــــــﺮﻡ ۔ 
ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﻤﯿﺎﺀ!! 
ﻧﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﮨﻮﮞ 
ﻧﮧ ﺟﻮﺍﺏ ﮨﻮﮞ 

ﮐﺴﯽ_ﻃﻮﺭ_ﺧﺘﻢ_ﻋﺬﺍﺏ_ﮨﻮں

Gazal - Sham k baad



تو نے دیکھا ہے کبھی اک نظر شام کے بعد
کتنے #چُپ_چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد
اتنے چُپ چاپ کہ راستے بھی رہیں گے #لا_علم
چھوڑ جائیں گے کسی روز نگر شام کے بعد
میں نے ایسے ہی گناہ تیری_جدائی میں کئے
جیسے طوفان میں کوئی چھوڑ دے گھر شام کے بعد
شام سے پہلے وہ مست اپنی #دعاؤں میں رہا
جس کے ہاتھوں میں تھے ٹوٹے ہوئے پَر شام کے بعد

#رات_بیتی تو گنے آبلے اور پھر سوچا

کون تھا #باعثِ_آغازِ سفر شام کے بعد
تُو ہے سورج تجھے معلوم کہاں #رات_کا_دُکھ
تُو کسی روز میرے گھر میں اُتر شام کے بعد
لوٹ آئے نہ کسی روز وہ #آوارہ_مجاز
کھول رکھے ہیں اسی آس پہ دَر #شام_کے_بعد

Gazal - Rabty Muhabat k

رابطے محبت کے،
ضابطے محبت کے۔۔

گھیر گھیر لیتے ہیں،
دائرے محبت کے۔۔

بےمہار ہوتے ہیں،
قافلے محبت کے۔۔

روز تو نہیں ہوتے،
حادثے محبت کے۔۔

کوئی بھی نہیں ٹکتا،
سامنے محبت کے۔۔

روح پر پڑے آکر،
آبلے محبت کے۔۔

فاصلے نہیں ہوتے،
فاصلے محبت کے۔۔*

دور تک نکل آئے،
*سلسلے  محبت کے۔۔*

Gazal - Mere Shart


کہو لوٹا سکو گے تم؟ 
تعلق توڑنا چاہو... 
تم مجهہ کو چهوڑنا چاہو.. 
تو میری شرط ہے اتنی 
تمہیں جو دے چکیں ہیں ہم 
مجهے لوٹا دو وہ سب کچهہ 
میرے_لمحے ...#وہ_قیمتی_لمحے 
جو تجهہ کو سوچتے گزرے 
وہ پل جو اک قیامت تهے 
جو تمہارا #راستہ دیکهتے گزارے 
#کہو_لوٹا_سکو_گے_تم ؟ 
حیا کی #چاندنی_دے_دی.. 
#جیا_کی راگنی دے دی.. 
لبوں کی #چاشنی_دے_دی
#حنا_کی روشنی دے دی 
تجهے تو #زندگی_دے_دی.. 
ہر اک اپنی #خوشی_دے_دی
# تو پهر وہ زندگی میری... 
# ہاں بولو ...#ہر_خوشی_میری.. 
# کہو ...لوٹا سکو گے تم. ؟؟ 
اگر ممکن ہو ایسا ہو .. 
# تعلق توڑ دینا تم 
بهلے_پهر_چهوڑ_دینا_تم ...

Sunday, 23 April 2017

Gazal - ye Tere jheel see aankhain

یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رت جگوں کے بھنور
یہ تیرے پھول سے چہرے پہ چاندنی کی پھوار
یہ تیرے لب یہ دیار یمن کے سرخ عقیق
یہ آئینے سی جبیں سجدہ گاہ لیل و نہار
یہ نیاز گھنے جنگلوں سے بال تیرے
یہ پھولتی ہوئی سرسوں کا عکس گالوں پر
یہ دھڑکنوں کی زباں بولتے ہوے ابرو
کمند ڈال رہے ہیں میرے خیالوں پر
یہ نرم نرم سے ہاتھوں کا گرم گرم سا لمس
گداز جسم پہ بلور کی تہوں کا سماں
یہ انگلیاں یہ زمرد تراشی شاخیں
کرن کرن تیرے دانتوں پہ موتیوں کا گماں
یہ چاندنی میں دھلے پاؤں جب بھی رقص کریں
فضا میں ان گنے گھنگھرو چھنکتے لگتے ہیں
یہ پاؤں جب کسی رستے میں رنگ برسائیں
تو موسموں کے مقدر سنورنے لگتے ہیں
تیری جبیں پہ اگر حادثوں کے نقش ابھریں
مزاج گردش دوراں بھی لڑکھڑا جاے
تو مسکراے تو صبحیں تجھے سلام کریں
تو رو پڑے تو زمانے کی آنکھ بھر آے
تیرا خیال ہے خوشــــبو ، تیرا لباس کرن
تو خاک زاد ہے یا آســماں سے اُتری ہے
میں تجھ کو دیکھ کے خود سے سوال کرتا ہوں
یہ رنگ موج زمیں پر کہاں سے اُتری ہے ؟
میں کس طرح تجھے لفظوں کا پیرہن بخشوں ؟
میرے ہنر کی بلندی تو سرنگوں ہے ابھی
تیرے بدن کے خد و خال میرے بس میں نہی
میں کس طرح تجھے سوچوں، یہی جنوں ہے ابھی
ملے ہیں یوں تو کئی رنگ کے حسیں چہرے
میں بے نیاز رہا موجِ صبا کی طرح
تیری قسم تیری قربت کے موسموں کے بغیر
زمیں پہ میں بھی اکیلا پھرا خدا کی طرح
مگر میں شہر حوادث کے سنگ زادوں سے
یہ آئینے سا بدن کس طرح بچاؤں گا ؟
مجھے یہ ڈر ہے کسی روز تیرے کرب سمیت
میں خود بھی دکھ کے سمندر میں ڈوب جاؤں گا
مجھے یہ ڈر ہے کہ تیرے تبسموں کی پھوار
یونہی وفا کا تقاضا حیا کا طور نہ ہو
تیرا بدن تیری دنیا ہے منتظر جس کی
میں سوچتا ہوں میری جاں وہ کوئی "اور" نہ ہو
میں سوچتا ہوں مگر سوچنے سے کیا حاصل
یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھنور

Gazal - Muhabat

ہم نے جو کی تھی محبت وہ آج بھی ہے
تیری زلفوں کے سائے کی چاہت آج بھی ہے

رات کٹتی ہے آج بھی خیالوں میں تیرے
دیوانوں سی وہ میری حالت آج بھی ہے

کسی اور کے تصّور کو اُٹھتی نہیں
بے ایماں آنکھوں میں تھوڑی سی شرافت آج بھی ہے

چاہ کے ایک بار چاہے پھر چھوڑ دینا تُو
دل توڑ تجھے جانے کی اجازت آج بھی ہے

Saturday, 22 April 2017

Gazal - Tum Sapno ki Tabeer Piya


تم سپنوں کی تعبیر پِیا
مرے پیروں میں زنجیر پِیا
اب نین بہاویں نیر پِیا
اے شاہ مرے اک بار تو آ
تو وارث، میں جاگیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا

بے نام ہوئی، گم نام ہوئی
کیوں چاہت کا انجام ہوئی
مرا مان رہے، مجھے نام ملے
اک بار کرو تحریر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا

کب زلف کے گنجل سلجھیں گے
کب نیناں تم سے الجھیں گے
کب تم ساون میں آؤ گے
کب بدلے گی تقدیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا

سب تیر جگر کے پار گئے
مجھے سیدے کھیڑے مار گئے
آ رانجھے آ کر تھام مجھے
تری گھائل ہو گئی ہیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا

میں جل جل ہجر میں راکھ ہوئی
میں کندن ہو کر خاک ہوئی
اب درشن دو، آزاد کرو
اب معاف کرو تقصیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پیا

کب زین اداسی بولے گی
کب بھید تمہارا کھولے گی
کب دیپ بجھیں ان آنکھوں کے
تم مت کرنا تاخیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا

****************
سُن سانسوں کے سلطان پیا
سُن سانسوں کے سلطان پیا
ترے ہاتھ میں میری جان پیا
میں تیرے بن ویران پیا
تو میرا کُل جہان پیا

مری ہستی، مان، سمان بھی تو
مرا زھد، ذکر، وجدان بھی تو
مرا، کعبہ، تھل، مکران بھی تو
میرے سپنوں کا سلطان بھی تو

کبھی تیر ہوئی، تلوار ہوئی
ترے ہجر میں آ بیمار ہوئی
کب میں تیری سردار ہوئی
میں ضبط کی چیخ پکار ہوئی

مرا لوں لوں تجھے بلائے وے
مری جان وچھوڑا کھائے وے
ترا ہجر بڑا بے درد سجن
مری جان پہ بن بن آئے وے

مری ساری سکھیاں روٹھ گئیں
مری رو رو اکھیاں پھوٹ گئیں
تجھے ڈھونڈ تھکی نگری نگری
اب ساری آسیں ٹوٹ گئیں

کبھی میری عرضی مان پیا
میں چپ، گم صم، سنسان پیا
میں ازلوں سے نادان پیا
تو میرا کُل جہاں پیا

****************
یہ کیسی تیری پریت پیا
یہ کیسی تیری پریت پیا
تو دھڑکن کا سنگیت پیا

ترے رسم رواج عجیب بہت
مرا در در پھرے نصیب بہت
ترا ہجر جو مجھ میں آن بسا
میں تیرے ہوئی قریب بہت

مجھے ایسے لگ گئے روگ بُرے
میں جان گئی سب جوگ بُرے
آ سانول نگری پار چلیں
اس نگری کے سب لوگ بُرے

تجھے دیکھ لیا جب خواب اندر
میں آن پھنسی گرداب اندر
بن پگلی، جھلَی، دیوانی
میں ڈھونڈوں تجھے سراب اندر

ترے جب سے ہو گئے نین جدا
مرے دل سے ہو گیا چین جدا
کیا ایک بدن میں دو روحیں
ہم جسموں کے مابین جدا

یہ ہے ازلوں سے رِیت پیا
کب مل پائے من میت پیا
اب لوٹ آؤ سُونے مَن میں
کہیں وقت نہ جائے بیت پیا

یہ کیسی تیری پریت پیا
تو دھڑکن کا سنگیت پیا

****************
"تُو میرا سانول ڈھول پیا"
تری یاد میں کاٹوں رین پیا
گئی نیند، گیا سکھ چین پیا
تری ایک جھلک تک لینے کو
مرے ترس گئے دو نین پیا
میں خواب نگر کے پار گئی
اک بار نہیں ہر بار گئی
میں رو رو جیون ہار گئی
مجھے تیری جدائی مار گئی
ہر سمت خموشی طاری ہے
اور ہجر بھی ہر سو جاری ہے
ہر رات ترے بن بھاری ہے
اب جندڑی تجھ پر واری ہے
مجھے درد ملے انمول پیا
میں ہستی بیٹھی رول پیا
کبھی میرے دکھ سکھ پھول پیا
"تُو میرا سانول ڈھول پیا"

****************
تو میرا سانول ڈھول پیا
تو میرا سانول ڈھول پیا
کبھی بول تو مِٹھڑے بول پیا

ذرا دھیرے سے لب کھول پیا
یوں مول نہ کر مت تول پیا
مِری جندڑی کو مت رول پیا
یوں کانوں میں رَس گھول پیا

تو میرا سانول ڈھول پیا
کبھی بول تو مِٹھڑے بول پیا

کبھی آنکھیں ساون بھادوں ہیں
کبھی سانسوں میں ویرانی ہے
''میں لوٹ کہ پھر نہیں آؤں گا''
تو ایسے تو مت بول پِیا

تو میرا سانول ڈھول پیا
کبھی بول تو مِٹھڑے بول پیا

ہمیں پیار کرو، بیمار کرو
جو جی میں آئے یار کرو
احسان یہ اب کی بار کرو
تبدیل کرو ماحول پیا

تو میرا سانول ڈھول پیا
کبھی بول تو مِٹھڑے بول پیا

کوئی سچ نہ تمہارا مانے گا
اپنا نہ کوئی پہچانے گا
کوئی تولے گا کوئی چھانے گا
تو جو جی چاہے بول پیا

تو میرا سانول ڈھول پیا
کبھی بول تو مِٹھڑے بول پیا

کیوں آس لگاتے رہتے ہو
کیوں پیاس جگاتے رہتے ہو
کبھی ہم بھی دیکھیں روپ تِرا
کبھی بند دروازے کھول پیا

تو میرا سانول ڈھول پیا
کبھی بول تو مِٹھڑے بول پیا

زینؔ اُس کی باتیں کرتے ہو
کیوں ٹھنڈی آہیں بھرتے ہو
نہ جیتے ہو نہ مرتے ہو
مت بند اشکوں کے کھول پیا

تو میرا سانول ڈھول پیا
کبھی بول تو مِٹھڑے بول پیا



Gazal - Intizaar


وہ آ تو جائے مگر انتظار ہی کم ہے
وہ بے وفا تو نہیں میرا پیار ہی کم ہے

میں کیسے مان لوں اس پہ کوئی اثر ہی نہ ہو
کہ دل تڑپتا رہے اور اسے خبر ہی نہ ہو
یہ دل خدا کی قسم بے قرار ہی کم ہے

زمانہ کہتا ہے وہ میرا ساتھ چھوڑ گیا
وہ مجھ کو بھول گیا میرے دل کو توڑ گیا
میں کیا کروں کہ مجھے اعتبار ہی کم ہے

کمی رہی ہے میرے پیار میں کہیں نہ کہیں
کہ آنسووں میں ابھی خون دل کا رنگ نہیں
ابھی تو آنکھ میری اشکبار ہی کم ہے

وہ آ تو جائے مگر انتظار ہی کم ہے
وہ بے وفا تو نہیں میرا پیار ہی کم ہے..!!

Gazal - Tanhai


ہجر کے سارے دکھ دہرانے لگ جاؤں
یا پھر تجھ سے بات چھپانے لگ جاؤں

تنہائی سے باتیں کرنا سیکھا ہے
کنکر سے دریا بہلانے لگ جاؤں

آوازوں پر میرا زور نہیں چلتا
خاموشی کے گیت سنانے لگ جاؤں

اوجھل کر کے خود کو اپنی آنکھوں سے
پھر خود کو آواز لگانے لگ جاؤں

یعنی میں پہنا لوں چہرے پر چہرا
میں بھی تیرے ساتھ زمانے لگ جاؤں؟

پچھلی رات کو رات بھٹکتے دیکھی ہے
سورج کو یہ خواب سنانے لگ جاؤں

جب اندر کے شور کو چُپ سی لگ جائے
میں خاموشی سے چلّانے لگ جاؤں

رات ڈھلے اور چاند کے اوجھل ہونے پر
سورج کو میں آنکھ دکھانے لگ جاؤں

زینؔ کوئی تدبیر تو ہو اُس کی خاطر
اس کے شہر میں آنے جانے لگ جاؤں

Gazal - wo jab jab milny ati thi


وہ جب جب ملنے آتی تھی۔۔۔۔
کچھ نہ کچھ بھول کے جاتی تھی۔۔۔۔
میرا کمرا بھرا پڑا اسکی چھوٹی چھوٹی چیزوں سے۔۔۔۔::
یہ ہیئر پنز، بال بندھے تو سزا لگتا تھا اسے۔۔۔۔۔۔۔
یہ انگوٹھی، میں نے کہا تھا کہ۔۔۔۔۔
کیسی بھدی سی ہے، تو یہیں رکھ چھوڑی۔۔۔۔۔۔۔
یہ اوپر سے چبائی پنسل، بھوکی کہیں کی۔۔۔۔۔۔
یہ چھوٹی سی نوٹ بک، بڑے بڑے خواب لکھتی تھی اس میں۔۔۔۔۔۔
یہ ٹوٹی ہوئی چوڑیاں، مجھے مارنے کو اٹھی تھی اور دیوار میں جا لگی۔۔۔۔۔
کیسے بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کے روئی تھی، توبہ۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بانو قدسیہ کا ناول، آدھا پڑھا اور یہاں چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔
اور یہ برسوں پرانی جیکٹ، جانے کیا اچھا لگتا تھا اس میں اسے۔۔۔۔۔۔۔
سانس نہیں لیتی تھی اسکے بغیر۔۔۔۔
اب دیکھو پچھلی سردیوں سے یہیں دھری ہے۔۔۔۔۔۔
پھر یوں ہوا بہت مدت نہیں آئی وہ مجھ سے ملنے۔۔۔۔۔۔
کیسا سناٹا رہا کرتا تھا ان دنوں اس کمرے میں۔۔۔۔۔۔۔
آج آ رہی ہے ملنے مجھ سے، کہتی تھی۔۔۔۔۔
آخری الوداع ضروری ہے۔۔۔۔۔
میں نے بھی کہہ دیا اب کچھ بھول کے مت جانا۔۔۔۔۔۔۔
آئی، کچھ دیر رکی، نہ کوئی بات، نہ چیت۔۔۔۔۔۔۔
چپکے چپکے روتی رہی اور پھر چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔
اور یہ دیکھو، پانی کے گلاس پہ چھوڑ دیئے نا اس نے لپ اسٹک کے نشان۔۔۔۔۔۔۔
ارے پاگل، میری جان۔۔۔۔۔۔
تو جہاں کہیں بھی رہے لیکن
تھوڑی سی تُو۔۔۔۔۔۔۔
میرے کمرے میں رہتی ہے۔

Gazal - ishq


💞ع سے ھے عشق اور💞
💞ع سے ھے عورت بھی! 💞
💞م سے ھے مرد اور! 💞
💞م سے محبت بھی!! 💞
💞سنو!!💞
💞میرے حبیب! 💞
💞میں نے تم سے 💞
💞عشق کیا ھے!!💞
💞اور تم نے 💞
💞مجھ سے محبت!!💞
💞تم پوچھو گے💞
💞کہ عشق اور 💞
💞محبت میں 💞
💞کیا فرق ھے؟💞
💞تو سنو!! 💞
💞عشق میں💞
💞شرک نھیں ھوتا💞
💞اور 💞
💞محبت میں💞
💞بہت سی اور 💞
💞محبتوں کی💞
💞خواھش رھتی ھے  💞
💞محبت میں  💞
💞توحید نھیں ھوتی 💞
💞شرک کی گنجائش!!   💞
💞رھتی ھے..!!!  💞

Friday, 21 April 2017

Dil ki bat


ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﮧ ﺩﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ
ﮐﺎﺵ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮ ﮐﮧ
ﺟﺲ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﺮﺗﮯ
ﭘﮩﺮﻭﮞ ﮔﺰﺭﯾﮟ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﺩﻭﺭﺍﻥ
ﯾﮑﺪﻡ ﮐﺎﻡ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺍﺱ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﺁﮰ
ﻭﮦ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﮯ
ﺩﻝ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ
ﮨﻨﺲ ﮐﮯ ﮐﮩﻮﮞ ﺍﭼﮭﺎﺟﺎﺅ
ﭘﺮ ﻭﮦ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻦ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮ ﮐﮧ
ﻣﯿﺮﯼ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﭘﺎ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ
ﭼﺎﮦ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ, ﺟﺎﻧﮯ ﻧﮧ ﭘﺎﮰ
ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺎﻥ
ﺍﯾﺴﺎ ﮐﭽﮫ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﻭﮦ
ﯾﻮﮞ ﺭﮐﮫ ﻟﮯ ﮐﮧ
ﮐﺎﻡ ﺗﻮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺁﺅ ﺁﺝ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻤﺤﮯ
ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ...!!!

Famous Urdu Gazal - Chany walon main koi


رات بیٹھا تھا میرے پاس خیالوں میں کوئی
اُنگلیاں پھیر رہا تھا میرے بالوں میں کوئی

دیدۂ تر نے بڑی دیر میں پہچانا اسے
رُوپ کھو بیٹھا ہے دو چار ہی سالوں میں کوئی

غمزدہ شب کی گلوگیر ہوا کہتی ہے
یاد کرتا ہے مجھے چاہنے والوں میں کوئی

میں شب شہر میں تھا اور اُدھر گاؤں میں
جلتی شمعیں لیے پِھرتا رہا گالوں میں کوئی

ہم اندھیروں کے مکیں ان کو نظر آ نہ سکے
کس قدر محو رہا اپنے اُجالوں میں کوئی

ہجر نے اتنا ستایا ہے کہ جی چاہتا ہے
کاش مل جائے تیرے چاہنے والوں میں کوئی۔۔!!!

Urdu Gazal - Gam


غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا 
ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا

قفس لے اڑوں میں، ہوا اب جو سنکے 
مدد اتنی اے بال و پرواز دینا

نہ خاموش رہنا مرے ہم صفیرو 
جب آواز دوں ، تم بھی آواز دینا

کوئی سیکھ لے دل کی بے تابیوں کو 
ہر انجام میں رنگِ آغاز دینا

دلیلِ گراں باریِ سنگِ غم سے 
صفی ٹوٹ کر دل کا آواز دینا